Tuesday, June 23, 2026
Independent Editorial Voice
Quetta, Pakistan
Balochistan Dispatch
Truth, Investigation, and Analysis
Breaking News
Loading breaking news alert...
ADVERTISEMENT
ہوم › گریٹر بلوچستان

کوریج ڈیسک

گریٹر بلوچستان

ایک خطہ، تین ریاستیں، اور سمندر پار ایک برادری۔ پاکستان، ایران، افغانستان اور عمان سے بلوچ سرزمین، ثقافت اور سیاست کی رپورٹنگ۔

پاکستان 301 خبریں ایران 14 خبریں افغانستان 5 خبریں عمان و خلیج 4 خبریں بحیرہ عرب تفتان-میرجاوہ چمن-سپین بولدک زرنج-ملک گوادر چابہار

خاکہ: نسبتی محلِ وقوع دکھانے کے لیے — یہ کوئی سرحدی نقشہ نہیں۔

یہ ڈیسک کیوں

بلوچستان ایک ہی تاریخی اور ثقافتی خطہ ہے جو تین ریاستوں — پاکستان، ایران اور افغانستان — میں تقسیم ہے، جبکہ عمان اور خلیج میں ایک دیرینہ آباد بلوچ برادری بھی موجود ہے۔ صرف پاکستانی صوبے کی رپورٹنگ اُس کہانی کا ایک حصہ ہے جو سرحد پر ختم نہیں ہوتی: وہی خاندان، وہی زبان، وہی خشک سالی اور وہی تجارتی راستے سرحد کے آر پار چلتے ہیں۔ یہ چار ڈیسک اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ رپورٹنگ سرحد کے بجائے خطے کا تعاقب کرے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

گریٹر بلوچستان کیا ہے؟
یہ بلوچ عوام کا تاریخی و ثقافتی خطہ ہے جو آج پاکستان، ایران اور افغانستان میں منقسم ہے، جبکہ عمان اور خلیج میں ایک دیرینہ بلوچ برادری آباد ہے۔
یہ خطہ کن ممالک میں تقسیم ہے؟
پاکستان (صوبہ بلوچستان)، ایران (سیستان و بلوچستان) اور افغانستان (بنیادی طور پر نیمروز، ہلمند، فراہ اور قندھار)۔ عمان میں بلوچ آبادی صدیوں پرانی ہے۔
کل کتنے بلوچ ہیں؟
کوئی ریاست نسلی مردم شماری شائع نہیں کرتی، اس لیے ہر عدد ایک تخمینہ ہے۔ تینوں ممالک اور خلیج کو ملا کر عام طور پر ڈھائی سے ساڑھے تین کروڑ کے درمیان تخمینے دیے جاتے ہیں۔
کیا گوادر واقعی عمان کا حصہ تھا؟
جی ہاں۔ 1783ء میں گوادر عمانی شاہی خاندان کے ایک فرد کو دیا گیا اور 175 سال تک عمان کی عملداری میں رہا، یہاں تک کہ 8 ستمبر 1958ء کو پاکستان نے اسے خریدا۔

آبادی کے اعداد و شمار متنازع ہیں: کوئی ریاست بلوچ آبادی کی الگ مردم شماری شائع نہیں کرتی۔ اس صفحے پر یا تو سرکاری مردم شماری کے اعداد بمع حوالہ دیے گئے ہیں یا انہیں واضح طور پر تخمینہ کہا گیا ہے۔